افغانستان میں عام خطرات میں سیلاب اور اچانک سیلاب، زلزلے، خشک سالی، لینڈ سلائیڈنگ، برفانی تودے، شدید گرمی اور سردی، بھاری برف یا بارش، گرج چمک کے طوفان، گرد و غبار اور تیز ہوائیں شامل ہیں۔ شہروں یا کام کی جگہوں پر آگ بھی بہت سے لوگوں اور اہم سہولیات کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ ہندوکش اور مشرقی و شمال مشرقی علاقوں میں زلزلے کا خطرہ خاص طور پر زیادہ ہے۔ دریا، کھڑی آب گیر وادیاں اور دور دراز پہاڑی راستے وہاں سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور برفانی تودوں کا خطرہ بڑھاتے ہیں۔ خشک سالی زراعت، چراگاہوں اور پانی کی فراہمی پر خاص دباؤ ڈالتی ہے۔ افغانستان کا قومی ادارۂ آفات سے نمٹنے کا نظم (Afghanistan National Disaster Management Authority)، یعنی اینڈما، قومی اور صوبائی سطح پر آفات کے انتظام میں رابطہ کاری کرتا ہے۔ اس کے کاموں میں خطرے کے نقشے، عوامی آگاہی، احتیاطی تعمیرات اور مقامی برادریوں کو مضبوط کرنا شامل ہے۔ تمام 34 صوبوں میں مجموعی طور پر 4,970 خطرے سے دوچار مقامات درج کیے گئے ہیں۔ مالی سال 1403، یعنی 2024 سے 2025 کے عرصے میں، 18 احتیاطی منصوبے طے کیے گئے؛ ان میں سے چھ مکمل ہوئے۔ ان میں حفاظتی دیواریں، گابیئن، پانی روکنے کے حوض، نکاسی کی نہریں، پلیاں، اور پلوں اور سڑکوں پر اقدامات شامل ہیں۔ افغانستان کا محکمہ موسمیات (Afghanistan Meteorological Department)، یعنی اے ایم ڈی، بارش، گرج چمک، اچانک سیلاب، ہوا اور گرد و غبار سے متعلق انتباہات جاری کرتا ہے۔ معلومات انٹرنیٹ، ریڈیو، ٹیلی وژن اور سوشل میڈیا سے پہنچائی جاتی ہیں، لیکن ہر جگہ دور دراز دیہی علاقوں تک قابلِ اعتماد طور پر نہیں پہنچتیں۔ دسمبر 2026 تک جاری مشترکہ پروگرام سیلاب کی پیش گوئی، خشک سالی کی نگرانی، ڈیجیٹل موسم اور خطرے کے ڈیٹا، اور اثرات پر مبنی انتباہات بہتر بناتا ہے۔ گھرانوں کو مقامی انتباہات پر عمل کرنا، دریا کناروں اور سیلابی گزرگاہوں سے دور رہنا، اور پہلے سے طے کرنا چاہیے کہ ٹرانسپورٹ یا رابطے کے راستے بند ہوں تو وہ کیسے رابطہ کریں گے۔ واقعہ پیش آنے پر رہائشی یا مقامی حکام اطلاع دیتے ہیں۔ اینڈما اور صوبائی دفاتر تلاش اور بچاؤ، زخمیوں کی نقل و حمل، فوری نقصان اور ضرورت کے جائزے، متاثرہ افراد کی رجسٹریشن اور امداد جمع کرنے میں رابطہ کاری کرتے ہیں۔ افغان ہلال احمر، بین الاقوامی کمیٹی برائے صلیبِ احمر اور دیگر امدادی ادارے بچاؤ، طبی ریفرل، پانی کی امداد اور بند راستے کھولنے میں عملی کردار ادا کرتے ہیں۔ صوبائی کمیٹیاں اور مقامی حکام مخصوص واقعے کے لیے انخلا کا حکم دے سکتے ہیں۔ دستیاب معلومات میں 112 جیسا ملک گیر معیاری شہری ہنگامی نمبر، معیاری انخلا کے نقشوں کا نظام یا ملک گیر یکساں ہنگامی پناہ گاہوں کا نیٹ ورک درج نہیں۔ دور دراز مقامات میں سڑکیں بند، طبی سہولت محدود، موسم خراب اور رابطے منقطع ہو سکتے ہیں؛ فضائی نقل و حمل صرف وہاں ممکن ہے جہاں رسائی اور سلامتی اجازت دے۔ امداد کے لیے اینڈما یا صوبائی گورنر کو باقاعدہ درخواست دی جا سکتی ہے، یا انسانی ہمدردی کے اداروں اور ان کے شراکت داروں سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔ جائزے کے بعد براہِ راست مادی امداد، تقسیم یا احتیاطی منصوبے ہو سکتے ہیں۔ انسانی ہمدردی کے ادارے جائزہ شدہ ضروریات اور دستیاب وسائل کے مطابق نقد، خوراک، پناہ اور پانی کی امداد دیتے ہیں۔ یو این ایچ سی آر کی پناہ کی امداد کے لیے فوری ضرورت اور زمین کی ملکیت کا ثبوت، مقامی منظوری والی بلدیاتی یا سرکاری جگہ، استعمال کا حق یا عمارت کو واضح نقصان جیسے عوامل اہم ہیں۔ خوراک کی امداد یو این ایچ سی آر کی ذمہ داری نہیں؛ صورتِ حال کے لحاظ سے یہ عالمی غذائی پروگرام کی ذمہ داری ہے۔ نقد یا امداد حاصل کرنے کا عمومی خودکار حق ثابت نہیں۔ متاثرہ افراد جائزہ مانگ سکتے ہیں، لیکن رسائی اور امداد کا دائرہ جائزے، وسائل، عطیہ دہندگان کی مالی اعانت اور متعلقہ حکام کے فیصلوں پر منحصر ہے۔ ہنگامی امداد جلد از جلد شروع کی جاتی ہے، لیکن سلامتی، موسم، سڑکوں اور ناکافی وسائل کے باعث تاخیر ہو سکتی ہے۔ امدادی خدمات اکثر دنوں سے ہفتوں تک رہتی ہیں، جبکہ تعمیرِ نو میں مہینے یا سال لگ سکتے ہیں۔ ابتدائی امداد کے بعد نقصان اور نقصانات کے جائزے سے رہائش، پانی و صفائی، زراعت، مویشی، آبپاشی، روزگار، ٹرانسپورٹ، توانائی اور عوامی سہولیات کے اقدامات طے ہوتے ہیں۔ حفاظتی دیواریں اور زیادہ مضبوط پناہ گاہیں مستقبل کے واقعات کے اثرات کم کر سکتی ہیں۔ مالی وسائل بڑی رکاوٹ ہیں: مشرقی افغانستان میں 2025 کے زلزلے کے بعد کے منصوبے کے لیے ستمبر سے دسمبر 2025 تک 139.6 ملین امریکی ڈالر مختص کیے گئے؛ 498,800 افراد کو ضرورت مند سمجھا گیا۔ 2025 کے انسانی امدادی منصوبے کو 2.42 ارب امریکی ڈالر درکار تھے، لیکن رپورٹ کے وقت صرف 912.9 ملین امریکی ڈالر موصول ہوئے تھے۔ دستیاب نقصانات کے اعداد خطرے کی شدت دکھاتے ہیں۔ عالمی بینک کے مطابق 1980 سے قدرتی خطرات نے نو ملین افراد کو متاثر کیا اور 20,000 سے زیادہ اموات ہوئیں۔ 2024 کے سیلاب نے 32 صوبوں میں 119,160 سے زیادہ افراد کو متاثر کیا، 6,800 سے زیادہ گھر تباہ یا نقصان زدہ کیے اور کم از کم 225 جانیں لیں۔ 31 اگست 2025 کو مشرق میں آنے والے 6.0 شدت کے زلزلے میں 2,200 سے زیادہ افراد ہلاک، 3,600 زخمی اور تقریباً 6,800 گھر تباہ ہوئے۔ تازہ معلومات کے لیے اے ایم ڈی کا عوامی انتباہی صفحہ، مقامی حکام اور اینڈما کے صوبائی دفتر سے رجوع کریں۔ اینڈما مرکزی رابطے کے طور پر +93 (0) 0202527375 اور info@andma.gov.af درج کرتا ہے۔
افغانستان میں آفات
افغانستان میں زلزلے، سیلاب، اچانک سیلاب، خشک سالی، لینڈ سلائیڈنگ، برفانی تودے اور شدید موسم بار بار آتے ہیں۔ پہاڑی علاقے، خشک آب و ہوا، زمین کی خرابی اور کمزور بنیادی ڈھانچہ، خاص طور پر دور دراز علاقوں میں، ان کے اثرات بڑھاتے ہیں۔ انتباہات، مقامی انخلا کی ہدایات، پہلے سے طے شدہ رابطے اور ضرورت کے مطابق امداد طے کرتے ہیں کہ لوگوں کا تحفظ کیسے ہو اور انہیں مدد کیسے ملے۔
VivAVia can make mistakes. Check important information.

