گھرانے اور رشتہ دار عموماً بچوں، حاملہ یا دودھ پلانے والی خواتین، بزرگ رشتہ داروں اور بیمار یا معذور افراد کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔ رشتہ دار نقل مکانی، ہجرت، حراست یا وفات کے بعد رہائش، خوراک، نقل و حمل، اسکول تک رسائی، صحت کی دیکھ بھال اور تحفظ میں بھی مدد کر سکتے ہیں۔ برادری کے بزرگ، ملک، وکیلِ گذر، ارباب، شوریٰ یا جرگے کے ارکان اور مذہبی رہنما اکثر خاندانی تنازعات طے کرنے میں مدد دیتے ہیں، مگر ان کے فیصلوں کا اختیار مختلف ہوتا ہے اور تشدد کے معاملات میں محفوظ تحفظ فراہم نہیں بھی کر سکتے۔ افغانستان میں خاندانی مدد اور نگہداشت کی کوئی جامع ملک گیر عوامی خدمت ثابت نہیں۔ سرکاری ادارے، عدالتیں، قانونی امداد کے راستے، صحت کی سہولتیں اور انسانی ہمدردی کے پروگرام مختلف ضروریات پوری کرتے ہیں؛ رسائی صوبے، سکیورٹی، فنڈنگ، اہلیت، دستاویزات اور مقامی طریقۂ کار پر منحصر ہوتی ہے۔ مدد میں نقد رقم، خوراک، صحت، غذائیت، پانی اور صفائی، بچوں کے تحفظ کے کیس مینجمنٹ، نفسیاتی و سماجی مدد، شہری دستاویزات میں معاونت اور خاندان کا سراغ لگانا شامل ہو سکتا ہے۔ یہ پروگرام ہر شخص کا عمومی استحقاق نہیں بناتے، اور دستیابی تیزی سے بدل سکتی ہے۔ شناخت اور شہری ریکارڈ والدین سے تعلق، تحویل، وراثت، سفر اور خدمات تک رسائی پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ تذکرہ قومی شناختی دستاویز ہے۔ پیدائش کے سرٹیفکیٹ صحت کی سہولتوں یا رجسٹریشن کے راستوں سے جاری ہو سکتے ہیں، جبکہ گھر میں ہونے والی پیدائش کے لیے مقامی نمائندوں کی تصدیق درکار ہو سکتی ہے؛ پیدائش کے سرٹیفکیٹ کی درخواست عموماً بچے کے پانچ سال کا ہونے سے پہلے دی جاتی ہے۔ نکاح نامہ اور وفات کے سرٹیفکیٹ بھی سفر، ترکے کی انتظامیہ، جائیداد کی منتقلی، بینکاری، بیمہ، پنشن اور سرکاری مراعات کے لیے ثبوت بن سکتے ہیں۔ ریکارڈ نہ ہونا، گواہ دستیاب نہ ہونا، فاصلہ، نقل و حمل کا خرچ اور بار بار حاضری رسمی کارروائی مشکل بنا سکتے ہیں۔ شادی میں نکاح، مہر، ولی، خاندان کی شرکت اور بعض علاقوں میں تعددِ ازدواج شامل ہو سکتا ہے۔ غیر رجسٹر شدہ شادیوں سے ثبوت کے خطرات پیدا ہوتے ہیں، جن میں والدین سے تعلق، تحویل، وراثت، سفر اور مراعات کے تنازعات شامل ہیں۔ رسمی اور پروگرام کی پابندیوں کے باوجود کم عمری کی شادی، جبری شادی، دلہن کی قیمت یا جہیز کا دباؤ اور بد (baad) سنگین خطرات ہیں؛ بد سے مراد تنازع کے تصفیے میں لڑکی یا عورت کو معاوضے کے طور پر دینا ہے۔ گھریلو تشدد، معاشی یا وراثتی محرومی، تحویل کی دھمکیاں، بچوں سے مشقت، اسمگلنگ، غفلت اور علیحدگی بھی خاندانی زندگی اور خاندان بنانے پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ خاندانی علیحدگی میں طلاق، خلع یا عدالتی علیحدگی شامل ہو سکتی ہے۔ موجودہ عملاً نافذ قواعد مردوں کو یک طرفہ طلاق کا راستہ دیتے ہیں، جبکہ خواتین کی طرف سے شروع کی گئی عدالتی علیحدگی کو مزید محدود کرتے ہیں؛ مہر، نان نفقہ، تحویل، شادی کے ثبوت، حیثیت اور وراثت کے دعوے معاملے، عدالت، صوبے اور قابلِ اطلاق قانونی یا مذہبی ڈھانچے پر منحصر ہیں۔ وزارتِ انصاف، حقوق کی جنرل ڈائریکٹوریٹ، عدالتیں، قانونی امداد کی خدمات، اقوام متحدہ کے ادارے اور خصوصی تنظیمیں مدد دے سکتی ہیں، مگر عملی رسائی اور نفاذ میں فرق ہے۔ خواتین اور لڑکیوں کو نقل و حرکت، مرد سرپرست یا محرم کی توقعات، خواتین عملے سے رابطہ، صحت کی سہولتوں تک رسائی، خواندگی، خرچ اور سلامتی سے متعلق اضافی رکاوٹیں پیش آ سکتی ہیں۔ تشدد سے بچنے والے شخص کو خودکار طور پر خاندانی ثالثی کی طرف نہیں بھیجنا چاہیے، کیونکہ ثالثی خطرہ بڑھا سکتی ہے۔ جہاں دستیاب ہو، رازداری پر مبنی، متاثرہ فرد کی ضروریات کو مرکز میں رکھنے والے تحفظ، صحت، پناہ گاہ، قانونی اور نفسیاتی و سماجی ریفرل زیادہ محفوظ ہیں۔ فوری خطرے میں مناسب مقامی تحفظ یا صحت کے ذریعے سے رابطہ کریں اور معاملے کا انفرادی جائزہ لیں۔
افغانستان میں خاندان
افغانستان میں خاندانی تعلقات روزمرہ نگہداشت، تحفظ، مالی مدد اور تنازعات کے حل کا بڑا حصہ سنبھالتے ہیں۔ وسیع خاندان، برادری کے بزرگ، مذہبی شخصیات، عدالتیں، سرکاری دفاتر اور انسانی ہمدردی کی تنظیمیں الگ الگ کردار ادا کر سکتی ہیں۔ خاندانوں کی رسمی خدمات منتشر ہیں، جبکہ غربت، نقل مکانی، تنازع، بیماری، معذوری اور صنف سے متعلق پابندیاں انحصار اور نگہداشت کا بوجھ بڑھا سکتی ہیں۔
VivAVia can make mistakes. Check important information.

