وزارتِ صحتِ عامہ ایک کمزور صحت نظام کی نگرانی کرتی ہے، جس کا انحصار بیرونی مالی اعانت اور شراکت دار اداروں پر بہت زیادہ ہے۔ افغانستان میں 34 صوبے ہیں اور خدمات جغرافیے، سلامتی، موسم، مقامی عملے اور مرکز کی صلاحیت کے لحاظ سے بدلتی ہیں۔ پہاڑی علاقے، خراب ٹرانسپورٹ، غربت اور سفر کے اخراجات تقریباً ایک تہائی آبادی کو ناکافی خدمات تک محدود رکھتے ہیں۔ 2025 میں بنیادی نگہداشت یا موبائل صحت و غذائیت کی کم از کم 422 ٹیمیں بند ہوئیں، جس سے تقریباً 3.3 ملین افراد کی رسائی کم ہو گئی۔ 2026 میں اندازاً 14.4 ملین افراد کو صحت کی مدد درکار تھی، جبکہ دستیاب مالی وسائل طے شدہ منصوبے کے صرف ایک حصے کے لیے کافی تھے۔ سرکاری صحت خدمات کا باقاعدہ سلسلہ عموماً مقامی صحت مرکز یا کسی اور بنیادی نگہداشت کی سہولت سے شروع ہوتا ہے۔ بنیادی صحت مرکز یا جامع بنیادی صحت مرکز زیادہ وسیع معائنہ اور علاج فراہم کر سکتا ہے۔ ضلعی ہسپتال، صوبائی ہسپتال اور ریفرل ہسپتال پیچیدگیوں، جراحی، زچگی کی ہنگامی صورتوں، صدمے اور ایسے معاملات سے نمٹتے ہیں جن کے لیے زیادہ عملہ یا آلات درکار ہوں۔ ریفرل درکار ہو سکتا ہے، لیکن روانگی سے پہلے مقامی دستیابی، اوقات اور ٹرانسپورٹ کی تصدیق کریں، کیونکہ پورے ملک کے لیے خاندانی ڈاکٹر یا ریفرل کا کوئی یکساں معیار نہیں۔ احتیاطی خدمات میں حفاظتی ٹیکوں کا توسیعی پروگرام اور قومی مہمات، حمل سے پہلے اور بعد کی نگہداشت، خاندانی منصوبہ بندی، تولیدی صحت، غذائیت کی جانچ اور علاج، صفائی کی تعلیم اور بیماریوں کی نگرانی شامل ہیں۔ حفاظتی ٹیکوں کی کوریج علاقوں کے درمیان غیر یکساں ہے۔ پولیو اب بھی مقامی طور پر پایا جاتا ہے اور خسرہ، شدید آبی اسہال، ملیریا، ڈینگی اور کریمیا کانگو ہیمرجک بخار کی وبائیں علاج کی ضرورت اور رسائی کو متاثر کر سکتی ہیں۔ تپِ دق، ہیپاٹائٹس، ایچ آئی وی اور دیگر متعدی بیماریوں کے لیے بھی مقامی طور پر دستیاب جانچ، علاج اور بعد کی نگرانی درکار ہے۔ ماں اور بچے کی صحت کو خاص ترجیح حاصل ہے۔ تربیت یافتہ عملے کے ساتھ زچگی، زچگی اور نوزائیدہ بچوں کی ہنگامی نگہداشت، حمل کے دوران اور بعد کی دیکھ بھال، اور بیمار بچوں کا علاج مراکز، مقامی دائیوں، فیملی ہیلتھ ہاؤسز یا موبائل ٹیموں کے ذریعے ہو سکتا ہے۔ نقل و حرکت کے قواعد، خواتین پیشہ وروں کی کمی، ٹرانسپورٹ کے مسائل اور سماجی روایات خواتین اور لڑکیوں کے لیے اضافی رکاوٹیں پیدا کر سکتی ہیں۔ پیچیدگی کی صورت میں مناسب ہسپتال سے فوراً رابطہ ضروری ہے، تاہم ہر جگہ مطلوبہ عملہ، خون، آکسیجن، لیبارٹری یا تصویری تشخیصی خدمات دستیاب نہیں ہوتیں۔ ذہنی صحت اور نفسیاتی سماجی مدد کچھ بنیادی نگہداشت اور مقامی خدمات، غیر سرکاری تنظیموں اور ہسپتالوں میں دستیاب ہے، مگر ماہرین کی خدمات محدود ہیں۔ 2025 میں بیشتر صوبائی ہسپتالوں میں مخصوص ذہنی صحت کی خدمت موجود نہیں تھی۔ عالمی ادارۂ صحت کے نیٹ ورک میں آٹھ صوبوں میں داخل مریضوں کے لیے ذہنی صحت اور نفسیاتی سماجی مدد کے پانچ وارڈ، سرکاری اور نجی شعبے میں تقریباً 320 بستر، منشیات کے علاج کے 12 مراکز اور 13 صوبوں میں کام کرنے والے اوپیئڈ ایگونسٹ علاج کے پانچ مراکز شامل تھے۔ بدنامی، محدود عملہ اور خواتین و لڑکیوں کی محدود رسائی ان خدمات کے استعمال کو مزید گھٹا سکتی ہے۔ اگر کسی شخص کو خود کو یا دوسروں کو نقصان پہنچانے کا فوری خطرہ ہو تو قریب ترین موزوں مرکز، ہسپتال یا قابلِ اعتماد مقامی مدد سے فوراً رابطہ کریں؛ ملک گیر بحران ہیلپ لائن فرض نہیں کی جا سکتی۔ ادویات سرکاری پروگراموں، غیر سرکاری تنظیموں، ہسپتالوں، نجی فارمیسیوں اور بازاروں سے حاصل کی جاتی ہیں۔ قومی ادویات و صحت مصنوعات ریگولیٹری اتھارٹی ادویات اور صحت کی مصنوعات کو منضبط کرتی ہے، لیکن بہت سی ادویات درآمد ہوتی ہیں اور ان کی رسد، معیار، سرد زنجیر میں ذخیرہ، قیمت اور اصلیت مختلف ہو سکتی ہے۔ پیشہ ورانہ مشورے کے بغیر اینٹی بایوٹک خریدنا اور نگرانی کے بغیر دوا لینا علاج ناکام ہونے، جراثیم کے ادویات کے خلاف مزاحمت پیدا کرنے اور جعلی دوا کے خطرے کو بڑھاتا ہے۔ جہاں ممکن ہو، کسی قابلِ اعتماد رجسٹرڈ ذریعے سے دوا لیں۔ ذیابیطس، بلند فشارِ خون، دل اور سانس کی بیماری، سرطان اور معذوری کے طویل مدتی علاج میں تسلسل کمزور ہے۔ اسکریننگ، لیبارٹری ٹیسٹ، بحالی، باقاعدہ ادویات اور ماہر ڈاکٹر کو ریفرل دستیاب ہونے کی ضمانت نہیں؛ اس لیے تحریری طبی نتائج اور موجودہ ادویات کی فہرست اپنے پاس رکھیں۔ ہسپتال سے رخصتی کے انتظامات، بعد کے معائنے، بحالی، تسکینی نگہداشت اور طویل مدتی مدد بھی مختلف ہوتی ہے؛ صوبہ بدلنے یا پروگرام بند ہونے کے بعد وہی سہولت دستیاب نہ بھی ہو۔ سرکاری اور شراکت داروں کے مالی تعاون سے ملنے والی بنیادی خدمات اصولاً اکثر مفت یا رعایتی ہوتی ہیں، جبکہ نجی علاج، ادویات اور ٹرانسپورٹ کے لیے عموماً ادائیگی کرنا پڑتی ہے۔ فیس، غیر رسمی اضافی اخراجات، انتظار اور علاج کی مدت مرکز اور مقام کے لحاظ سے مختلف ہیں۔ باقاعدہ رضامندی، رازداری اور شکایت کے طریقے متعلقہ ادارے سے معلوم کریں۔ افغانستان میں صحت کی دیکھ بھال، ہنگامی ٹرانسپورٹ، ادویات کی دستیابی یا فالو اپ کے لیے ایسا کوئی واحد ملک گیر معیار نہیں جو یکساں فوائد کی ضمانت دیتا ہو۔ طبی ہنگامی حالت میں فوراً قریب ترین مناسب مرکز یا ہسپتال جائیں اور اگر دستیاب ہو تو مقامی ایمبولینس، شراکت دار تنظیم یا مقامی نیٹ ورک استعمال کریں۔
افغانستان میں صحت
افغانستان میں صحت کی دیکھ بھال سرکاری مراکز، شراکت دار اداروں، نجی فراہم کنندگان اور مقامی خدمات کے ذریعے ہوتی ہے، لیکن صوبوں اور اضلاع کے درمیان رسائی میں بڑا فرق ہے۔ صحت مراکز اور بنیادی صحت مراکز عام ابتدائی نگہداشت دیتے ہیں، جبکہ ضلعی، صوبائی اور ریفرل ہسپتال پیچیدہ حالات کا علاج کرتے ہیں۔ فاصلہ، سلامتی، نقل و حمل، ادویات کی دستیابی، لاگت اور خواتین طبی کارکنوں تک رسائی یہ طے کر سکتی ہے کہ علاج حاصل کرنا ممکن ہے یا نہیں۔
VivAVia can make mistakes. Check important information.

