شاگردی حقیقی کام اور منظم ہدایات کے ذریعے پیشہ ورانہ مہارتیں سکھاتی ہے۔ شاگرد کو ابتدا ہی سے مکمل تربیت یافتہ کارکن سمجھنے کے بجائے نگرانی میں سیکھنے کا موقع دیا جاتا ہے۔ بھارت میں شاگردی وسیع تر پیشہ ورانہ تربیتی نظام کا حصہ ہے۔ انڈسٹریل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹس، جنہیں عموماً ITI کہا جاتا ہے، دوسرے پیشہ ورانہ ادارے، آجر اور شعبے کی بنیاد پر کام کرنے والی تربیتی تنظیمیں سب متعلقہ کردار ادا کر سکتی ہیں۔ کچھ سیکھنے والے شاگردی شروع کرنے سے پہلے کسی ہنر کی تربیت مکمل کرتے ہیں۔ دوسرے آجر کے ساتھ کام شروع کرتے ہیں اور اسی انتظام میں عملی اور نظریاتی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ عام شعبوں میں صنعت سازی، بجلی کا کام، مکینکس، تعمیرات سے متعلق ہنر، خدمات، معلوماتی ٹیکنالوجی اور دفتری پیشے شامل ہیں۔ مواقع خطوں اور آجروں کے درمیان بہت مختلف ہوتے ہیں۔ مناسب شاگردی میں عموماً پیشہ، تربیت کا عرصہ، نگرانی، کام کی جگہ کے فرائض، سیکھنے کے اجزا اور شرائط واضح ہوتی ہیں۔ عہدہ قبول کرنے سے پہلے شاگرد کو ان شرائط کا علم ہونا چاہیے۔ روزانہ کی تربیت میں ہنرمند کارکنوں کا کام دیکھنا، کاموں کی مشق کرنا، حفاظتی طریقے اپنانا، ہدایات میں شرکت، ریکارڈ رکھنا اور جانچ مکمل کرنا شامل ہو سکتا ہے۔ صلاحیت بڑھنے کے ساتھ ذمہ داری بھی عموماً بڑھتی ہے۔ شاگردی عملی تجربہ، کام کی جگہ کے آداب، پیشہ ورانہ روابط اور کسی پیشے کی بہتر سمجھ دیتی ہے۔ اس سے آجر کو اپنی کام کی جگہ میں استعمال ہونے والی مہارتوں کے لیے لوگوں کو تربیت دینے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔ اس کی حدود میں تربیت کا غیر یکساں معیار، محدود آسامیاں، سفر کی مشکلات اور اتنی ہدایات کے بغیر بار بار ایک ہی کام دیے جانے کا خطرہ شامل ہیں۔ شاگردی مکمل کرنے سے مستقل ملازمت کی ضمانت بھی خود بخود نہیں ملتی۔ مضبوط امیدوار پیشے، آجر، تربیتی مواد، اس کی منظوری، حفاظت اور آئندہ راستوں کا موازنہ کرتا ہے۔ تحریری ریکارڈ اور تصدیق شدہ دستاویزات غلط فہمیاں روکنے میں مدد دیتی ہیں۔
بھارت میں شاگردی
بھارت میں شاگردی میں کسی پیشے یا ہنر میں سیکھنے کے ساتھ زیرِ نگرانی کام کرنا شامل ہے۔ عملی پیشوں میں داخلے کا یہ ایک راستہ ہے، جس کے ساتھ پیشہ ورانہ ادارے اور آجر کی فراہم کردہ تربیت بھی موجود ہیں۔ اس کی درست ساخت پیشے، تربیت فراہم کرنے والے ادارے، آجر اور لاگو اسکیم پر منحصر ہوتی ہے۔
VivAVia can make mistakes. Check important information.

