بھارت کی تاریخ قومی تحریری ریکارڈ سے بہت پہلے شروع ہوتی ہے۔ وادیٔ سندھ کی تہذیب کے آثارِ قدیمہ بڑے منصوبہ بند شہروں، دستکاری کی پیداوار اور دور دراز تجارت کو ظاہر کرتے ہیں۔ بعد کی صدیوں میں سلطنتیں، جمہوریہ نما ریاستیں، قصبے، فلسفیانہ روایتیں اور بڑی مذہبی تحریکیں پروان چڑھیں۔ ہندو، بدھ اور جین افکار مختلف برادریوں اور متون کے ذریعے ترقی کرتے رہے۔ موریہ اور گپتا سلطنتوں جیسی بڑی ریاستوں نے انتظام، علم، فن اور تجارت پر اثر ڈالا۔ تاہم ان کی حکومت پوری کہانی نہیں تھی، کیونکہ علاقائی طاقتیں اور مقامی معاشرے بھی اہم رہے۔ بحرِ ہند اور خشکی کے راستوں کے رابطوں سے تاجر، مسافر، زبانیں، ٹیکنالوجیاں اور عقائد آئے۔ ان تبادلوں نے ساحلی اور اندرونی علاقوں کی ثقافتوں کو شکل دینے میں مدد کی۔ اسلامی دربار رکھنے والے کئی خاندانوں نے برصغیر کے بعض حصوں پر حکومت کی۔ دہلی سلطنتیں اور مغل سلطنت خاص طور پر اہم ہیں، جبکہ علاقائی ریاستوں نے بھی فنِ تعمیر، زبان، زراعت اور حکومت کو شکل دی۔ یورپی تجارتی کمپنیاں سمندر کے راستے پہنچیں، اور برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی نے بتدریج سیاسی طاقت حاصل کر لی۔ برطانوی نوآبادیاتی حکمرانی نے انتظام، نقل و حمل، تعلیم اور معیشت کو بدل دیا، لیکن اس کے ساتھ جبر اور شدید عدم مساوات بھی پیدا ہوئی۔ نوآبادیاتی حکمرانی کے خلاف مزاحمت کی کئی صورتیں تھیں، جن میں مقامی بغاوتیں، سماجی اصلاح، مزدور تحریک، انقلابی سرگرمیاں اور عوامی سیاسی تحریکیں شامل ہیں۔ 1947 میں آزادی کے ساتھ تقسیم بھی ہوئی، جس سے بھارت اور پاکستان وجود میں آئے اور بڑے پیمانے پر نقل مکانی اور تشدد ہوا۔ بھارت جمہوری آئین کے ساتھ ایک جمہوریہ بنا۔ اس کی بعد کی تاریخ میں ریاستوں کی تنظیمِ نو، سماجی تحریکیں، معاشی تبدیلی، سائنسی ترقی، تنازعات اور مساوات و تعلق کے بارے میں جاری مباحث شامل ہیں۔
بھارت میں تاریخ
بھارت کی تاریخ قدیم شہری تہذیبوں اور متنوع سلطنتوں سے لے کر نوآبادیاتی حکمرانی، آزادی اور جدید جمہوریہ تک پھیلی ہوئی ہے۔ تجارت، نقل مکانی، مذہب، زبان اور سیاسی تبدیلی نے برصغیر کو وسیع دنیا سے جوڑا۔ اس تاریخ کو سمجھنے کے لیے کئی علاقوں اور نقطہ ہائے نظر کو جاننا ضروری ہے، کیونکہ بھارت کا ماضی کوئی ایک سادہ کہانی نہیں۔
VivAVia can make mistakes. Check important information.

