بھارت کثیراللسانی ہے؛ یہاں ہر صورتِ حال میں استعمال ہونے والی کوئی ایک زبان نہیں۔ کوئی شخص گھر میں ایک زبان، محلے میں دوسری اور اسکول یا کام پر تیسری زبان استعمال کر سکتا ہے۔ آئین متعدد زبانوں کو تسلیم کرتا ہے، اور ریاستوں کے اپنے سرکاری زبانوں کے انتظامات ہیں۔ اس لیے بھارت کے مختلف علاقوں میں مقامی عوامی خدمات اور دستاویزات مختلف زبانیں استعمال کر سکتی ہیں۔ بہت سے علاقوں میں ہندی استعمال ہوتی ہے، لیکن ہر جگہ یکساں عام نہیں۔ اعلیٰ تعلیم، کاروبار، انتظامیہ، ٹیکنالوجی اور مختلف مادری زبانیں بولنے والوں کے درمیان رابطے کے بعض حصوں میں انگریزی اہم ہے۔ علاقائی زبانیں مقامی شناخت اور روزمرہ شرکت کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔ بنگالی، مراٹھی، تیلگو، تمل، گجراتی، اردو، کنڑ، ملیالم، پنجابی، اڑیہ، آسامی اور بہت سی دوسری زبانوں کی مستحکم بولنے والی برادریاں اور ادبی روایات ہیں۔ مادری زبان یا گھر کی زبان وہ زبان ہے جسے کوئی شخص خاندانی زندگی میں سب سے پہلے قریب سے استعمال کرتا ہے۔ اسے زندہ رکھنا رشتوں، شناخت اور سیکھنے میں مدد دے سکتا ہے، خواہ اسکول یا کام کے لیے کسی دوسری زبان کی ضرورت ہو۔ ذریعۂ تعلیم وہ زبان ہے جس میں مضامین پڑھائے جاتے ہیں۔ یہ بطور الگ مضمون کسی زبان کی تعلیم سے مختلف ہے، اور اسکول یا کورس منتخب کرتے وقت یہ فرق اہم ہوتا ہے۔ زبان سیکھنے میں سننا، بولنا، پڑھنا اور لکھنا شامل ہیں۔ یہ صلاحیتیں مختلف رفتار سے پروان چڑھ سکتی ہیں، خاص طور پر جب زبان کا رسم الخط نامانوس ہو۔ کئی زبانیں جاننا نقل و حرکت، روزگار، تعلیم اور برادری سے تعلق کے مواقع بڑھا سکتا ہے۔ تاہم لہجے کی بنیاد پر امتیاز اور معیاری تدریس تک غیر مساوی رسائی رکاوٹیں پیدا کر سکتی ہے۔ عملی طور پر سیکھنے والا کسی خاص مقصد کے لیے زبان اور اس کی مطلوبہ سطح چنتا ہے۔ روزمرہ گفتگو کے لیے مقامی الفاظ درکار ہو سکتے ہیں، جبکہ تعلیمی یا پیشہ ورانہ کام کے لیے رسمی پڑھنا اور لکھنا ضروری ہو سکتا ہے۔
بھارت میں زبانیں
بھارت میں زبانیں روزمرہ خاندانی زندگی، تعلیم، کام، حکومت اور ثقافت کا حصہ ہیں۔ ملک میں بہت سی علاقائی زبانیں، رسم الخط اور مقامی بولیاں ہیں، اور بہت سے لوگ ایک سے زیادہ زبانیں استعمال کرتے ہیں۔ سیکھنے کے لیے سب سے مفید زبان کا انحصار ریاست، برادری، اسکول، پیشے اور ذاتی مقصد پر ہے۔
VivAVia can make mistakes. Check important information.

