ایران میں انتخابات کو انتخابت (entekhabat) کہا جاتا ہے۔ یہ کئی عہدے داروں کے انتخاب میں عوام کو کردار دیتے ہیں، لیکن اسلامی جمہوریہ کے آئینی ڈھانچے کے اندر ہوتے ہیں۔ شہری صدر منتخب کرتے ہیں، جو انتظامی شاخ کا سربراہ ہوتا ہے۔ اگر پہلے مرحلے میں کسی صدارتی امیدوار کو مطلوبہ حمایت نہ ملے تو نمایاں امیدواروں کے درمیان دوسرا مرحلہ ہو سکتا ہے۔ شہری مجلس، ایران کی قومی پارلیمان، کے ارکان بھی منتخب کرتے ہیں۔ پارلیمانی انتخابات حلقوں کے مطابق منعقد ہوتے ہیں، اس لیے ووٹر مخصوص جغرافیائی علاقوں اور برادریوں سے وابستہ نمائندے چنتے ہیں۔ مجلس خبرگان ایک اور منتخب قومی ادارہ ہے۔ اس کے ارکان مذہبی فقہا ہوتے ہیں اور آئین کے تحت ادارے کی ذمہ داری رہبرِ اعلیٰ کا انتخاب اور نگرانی کرنا ہے۔ شہر اور دیہات کی کونسلوں کے انتخابات مقامی حکومت سے متعلق ہیں۔ یہ کونسلیں متعین مقامی معاملات دیکھتی ہیں اور بلدیاتی قیادت کے انتخاب اور نگرانی میں حصہ لیتی ہیں۔ منتخب عہدے کے خواہش مند افراد کو اندراج کرکے متعلقہ اہلیت کا عمل پورا کرنا ہوتا ہے۔ بڑے قومی انتخابات میں شورای نگهبان امیدواروں کی جانچ میں مرکزی کردار ادا کرتی ہے، جس سے حتمی بیلٹ میں آنے والوں کی تعداد محدود ہوتی ہے۔ انتخابی انتظام میں اندراج، مہم، ووٹنگ، گنتی، نتائج کا اعلان اور سرکاری ذرائع سے اعتراضات کا ازالہ شامل ہے۔ درست طریقۂ کار انتخابات کے لحاظ سے بدل سکتا ہے، اس لیے ووٹروں اور امیدواروں کو اسی انتخاب کے لیے جاری ہدایات پر عمل کرنا چاہیے۔ انتخابات انتظامی ترجیحات، پارلیمانی بحث اور مقامی انتظامیہ پر اثر ڈال سکتے ہیں۔ ان کی حدود میں امیدواروں کی جانچ، منتخب عہدوں کے محدود اختیارات اور ایسے اداروں کا مضبوط کردار شامل ہے جو عام عوام کے براہِ راست منتخب نہیں ہوتے۔
ایران میں انتخابات
ایران میں انتخابات شہریوں کو صدر، مجلس، مجلس خبرگان اور مقامی کونسلوں کے ارکان منتخب کرنے کا موقع دیتے ہیں۔ امیدواروں کی اہلیت اور انتخابی عمل کی نگرانی سرکاری ادارے کرتے ہیں، جن میں بڑے قومی انتخابات کے لیے شورای نگهبان کا اہم کردار ہے۔ اس لیے ووٹ اہم ہے، لیکن سیاسی حدود کے اندر ڈالا جاتا ہے۔
VivAVia can make mistakes. Check important information.

