ایران میں ٹیلی وژن اور ریڈیو اب بھی خبروں، تفریح، کھیل، تعلیم اور مذہبی پروگراموں کے اہم ذرائع ہیں۔ ملکی ذرائع ابلاغ کے نظام میں سرکاری نشریات کا مرکزی کردار ہے۔ مطبعی اور آن لائن اخبارات، مجاز حدود کے اندر مختلف سیاسی، ثقافتی اور پیشہ ورانہ نقطۂ نظر پیش کرتے ہیں۔ اشاعت کے حالات بدل سکتے ہیں اور ادارتی خودمختاری ضابطوں کے باعث محدود ہے۔ ایران سے باہر فارسی زبان کے ذرائع ابلاغ بھی کام کرتے ہیں اور سیٹلائٹ یا آن لائن چینلوں کے ذریعے سامعین تک پہنچتے ہیں۔ ان کے مقاصد، مالی معاونت اور ادارتی فیصلے مختلف ہیں، اس لیے انہیں ایک ہی نقطۂ نظر نہیں سمجھنا چاہیے۔ پیغام رسانی کی سروسز اور سوشل پلیٹ فارم خبروں اور عوامی گفتگو کے بڑے ذرائع ہیں۔ یہ افواہیں، ترمیم شدہ تصاویر، دوبارہ استعمال ہونے والی ویڈیوز، اشتہارات اور بے نام دعوے بھی بہت تیزی سے پھیلاتے ہیں۔ بعض ویب سائٹس یا پلیٹ فارم تک رسائی محدود یا غیر مستحکم ہو سکتی ہے۔ کنکشن سروس فراہم کرنے والے، مقام اور وسیع تر حالات کے مطابق بھی مختلف ہو سکتے ہیں۔ تفریح میں ایرانی فلمیں، ٹیلی وژن سیریز، موسیقی، پوڈکاسٹ، کتابیں اور آن لائن ویڈیو شامل ہیں۔ عوامی طور پر تقسیم ہونے والے کام ثقافتی اور قانونی ضوابط کے تحت ہوتے ہیں۔ فارسی تاریخوں میں شمسی ہجری تقویم استعمال ہو سکتی ہے، جبکہ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ اکثر گریگورین تقویم استعمال کرتے ہیں۔ دونوں تقویموں میں خلط ملط کرنے سے پرانی رپورٹ نئی محسوس ہو سکتی ہے۔ ذرائع ابلاغ کی خواندگی کا مطلب ہے جانچنا کہ دعویٰ کس نے تیار کیا، کب بنایا، اس میں کیا ثبوت ہیں اور کیا آزاد ذرائع اس سے متفق ہیں۔ جذبات کو ابھارنے والے مواد کو شیئر کرنے سے پہلے خاص احتیاط ضروری ہے۔
ایران میں ذرائع ابلاغ
ایران کے ذرائع ابلاغ میں سرکاری نشریات، اخبارات، رسائل، ویب سائٹس، پیغام رسانی کے چینل، سیٹلائٹ مواد اور سوشل میڈیا شامل ہیں۔ رسائی اور ادارتی آزادی کو ضوابط، ٹیکنالوجی اور سیاسی حالات تشکیل دیتے ہیں۔ رپورٹنگ کی مختلف صورتوں کا موازنہ کرنے سے لوگوں کو واقعات بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔
VivAVia can make mistakes. Check important information.

