افغانستان میں روزمرہ باہمی میل جول کو چلانے کے لیے ملک بھر میں ایک ہی شہری یا محلہ جاتی نظام موجود نہیں۔ صوبائی اور ضلعی دفاتر، مقامی بزرگ، مذہبی علما، علما شوریٰ اور کمیونٹی کے غیر رسمی نمائندہ گروہ عملاً اقتدار رکھنے والے رسمی حکام کے ساتھ ساتھ کام کرتے ہیں۔ کمیونٹی ڈیولپمنٹ کونسلز، جنہیں CDCs کہا جاتا ہے، 2024 میں رسمی کمیونٹی تنظیموں کے طور پر ختم کر دی گئیں؛ ملتے جلتے کام غیر رسمی گروہوں کے ذریعے جاری رہ سکتے ہیں، لیکن ان گروہوں کے پاس آزاد عوامی اختیار نہیں۔ مدد تک عملی رسائی کا انحصار مقام، متعلقہ ادارے اور مدد مانگنے والے شخص پر ہوتا ہے۔ خواتین، ملک کے اندر بے گھر افراد، وطن واپس آنے والے، اقلیتیں، نوجوان، معذور افراد اور کمزور گھرانے اضافی رکاوٹوں کا سامنا کرتے ہیں۔ پوری کمیونٹی کو شامل کرنے والے پروگرام تحفظ، دستاویزات، سماجی خدمات، کمیونٹی کے بنیادی ڈھانچے اور شرکت میں میزبان کمیونٹیوں اور وطن واپس آنے والوں کو شامل کر سکتے ہیں، لیکن ان سے ملک بھر میں کوئی عمومی حق پیدا نہیں ہوتا۔ 2024 کا نیکی کے فروغ اور برائی کی روک تھام کا قانون، جسے عموماً PVPV قانون کہا جاتا ہے، 34 میں سے 28 صوبوں میں صوبائی کمیٹیوں کے ذریعے نافذ کیا جاتا ہے۔ تقریباً 3,300 معائنہ کاروں کے پاس وسیع صوابدیدی اختیارات ہیں، جن میں حراست میں لینا اور چیزیں ضبط کرنا شامل ہیں۔ نفاذ سے عوامی آمدورفت، لباس، مرد و خواتین کی علیحدگی اور عوامی مقامات تک رسائی متاثر ہوتی ہے۔ خواتین کو حجاب سے متعلق قواعد کا سامنا ہے، جن میں گھر سے باہر چہرہ ڈھانپنا، سفر اور عوامی ٹرانسپورٹ کے لیے محرم کی شرط، اور عوامی جگہوں پر پابندیاں شامل ہیں۔ مردوں کو داڑھی، بالوں کے انداز اور باجماعت نماز میں شرکت سے متعلق قواعد کا سامنا ہو سکتا ہے۔ نفاذ صوبے اور ضلع کے لحاظ سے مختلف ہوتا ہے؛ ہرات میں 2026 کے دستاویزی واقعات میں چادر کی جانچ اور گرفتاریاں شامل تھیں۔ روزمرہ تنازعات خاندان، زمین یا پانی سے متعلق ہو سکتے ہیں۔ بزرگ، مذہبی علما اور عملاً اقتدار رکھنے والے حکام عموماً ایسے تنازعات میں ثالثی کرتے ہیں، جبکہ عملاً چلنے والی عدالتیں اور انصاف کے ادارے رسمی راستے فراہم کرتے ہیں؛ تاہم ان کا قانونی ڈھانچہ اور عملی رسائی واضح نہیں۔ تنازعات کے حل تک خواتین کی براہِ راست رسائی خاص طور پر محدود ہے: دسمبر 2025 کے ایک مشاورتی عمل میں 14% خواتین کے مقابلے میں 53% مردوں نے رسمی رسائی کی اطلاع دی، جبکہ غیر رسمی رسائی میں بھی ایسا ہی فرق تھا۔ صنفی بنیاد پر تشدد اور تحفظ کے معاملات کے لیے مخصوص تحفظی راستے درکار ہیں؛ انہیں محض معمول کی کمیونٹی ثالثی کے حوالے نہیں کرنا چاہیے۔ شہری سرگرمیوں کی جگہ سکڑ رہی ہے، اور سول سوسائٹی کے ساتھ سیاسی مکالمے کا کوئی مستقل ادارہ جاتی پلیٹ فارم قائم نہیں۔ UNAMA نے 26 جنوری سے 9 اپریل 2026 کے درمیان سول سوسائٹی، قبائلی بزرگوں، صحافیوں، کاروباری افراد اور خواتین کارکنوں کے ساتھ رابطے کی 80 سرگرمیوں کی اطلاع دی، جن میں 10 صوبوں میں نوجوانوں کے 19 اجلاس شامل تھے۔ عوامی احتجاج اور تنقید کے نتیجے میں حراست یا تشدد کا خطرہ ہو سکتا ہے۔ افغانستان میں باقاعدہ ساتھ رہنے کے حقوق، محلے کی ثالثی کی خدمات یا ڈیجیٹل کمیونٹی گورننس پلیٹ فارم کا ملک گیر مساوی نظام بھی ثابت نہیں ہے۔ اس کے بجائے کمیونٹی کی مدد میزبان کمیونٹی کے انتظامات، وطن واپس آنے والوں اور ملک کے اندر بے گھر افراد کی امداد، پناہ گاہ، رہائش، زمین اور جائیداد کے مسائل، بے دخلی کے خطرات اور خدمات تک رسائی سے جڑی ہوتی ہے۔ 2024 میں انٹرنیٹ کا استعمال 16.1% تھا، جبکہ موبائل براڈبینڈ سبسکرپشنز فی 100 باشندوں پر 60.1، موبائل فون کی ملکیت 48.4%، کم از کم 3G کوریج 71% اور LTE/WiMAX کوریج 37.3% تھی۔ 29 ستمبر سے 1 اکتوبر 2025 تک ملک گیر ٹیلی مواصلاتی اور انٹرنیٹ بلیک آؤٹ نے معلومات، ہنگامی امداد، طبی رسائی اور ترسیلاتِ زر میں خلل ڈالا۔ پابندیاں، سنسرشپ اور صحافیوں کو لاحق خطرات ڈیجیٹل شرکت کو بھی محدود کرتے ہیں اور آن لائن شکایات کو ناقابلِ اعتماد بناتے ہیں۔ افغانستان بین الاقوامی انسانی حقوق کے معاہدوں کا پابند ہے، لیکن اقوام متحدہ کی رپورٹوں میں مساوی سلوک، اظہار، اجتماع، مذہبی آزادی اور انصاف تک رسائی پر نمایاں پابندیوں کا ذکر ہے۔ اس لیے رسمی حقوق عوامی جگہوں، خدمات یا ازالے تک عملی رسائی کی ضمانت نہیں دیتے۔
افغانستان میں مل جل کر رہنا
افغانستان میں روزمرہ زندگی میں باہمی میل جول پر سرکاری ہدایات، مقامی ثالثی اور کمیونٹی کے غیر رسمی طریقوں کا اثر پڑتا ہے۔ عوامی جگہوں تک رسائی، تنازعات کا حل اور کمیونٹی میں شرکت جنس، نسلی گروہ، مذہب، عمر، معذوری اور بے گھر ہونے کی حالت کے لحاظ سے مختلف ہوتی ہے۔ مقامی بزرگ، مذہبی علما، عملاً اقتدار رکھنے والے حکام اور کمیونٹی کے نمائندہ گروہ اکثر ایسے کام انجام دیتے ہیں جن کے لیے ملک بھر میں ایک ہی محلہ جاتی نظام موجود نہیں۔
VivAVia can make mistakes. Check important information.

