افغان روایات ایک واحد قومی نظام نہیں بناتیں۔ خاندان، عمر رسیدہ رشتہ دار، محلے، دستکار برادریاں اور تجربہ کار استاد عموماً رسوم اور ہنر غیر رسمی طور پر آگے منتقل کرتے ہیں۔ وزارتِ اطلاعات و ثقافت، محکمۂ لوک ثقافت اور دفتر برائے غیر مادی ثقافتی ورثہ منتخب رسوم کا ریکارڈ رکھتے ہیں؛ افغان سائنس اکیڈمی کا ریسرچ میوزیم آف ایتھنوگرافی مختلف صوبوں اور برادریوں کے لباس، زیورات، گھریلو اشیا اور دھات کے کام محفوظ کرتا ہے۔ ملک بھر میں یکساں رسائی کے قواعد، فیس یا اجازت ناموں والی کوئی خدمت نہیں۔ سالانہ تقویم میں فارسی بہار کا نیا سال (نوروز یا نوروز) تقریباً 21 مارچ کو، اور خزاں کی آخری رات شامل ہے جو موسمِ سرما کے انقلاب کو ظاہر کرتی ہے (یلدا یا چلّہ)۔ یلدا روایتی طور پر عمر رسیدہ رشتہ داروں کے گھر منائی جاتی ہے؛ چراغ روشنی اور پانی پاکیزگی کی علامت ہوتے ہیں، جبکہ انار، تربوز، چقندر، عناب یا انگور جیسے سرخ پھل پیش کیے جاتے ہیں۔ نوروز 2024 میں UNESCO کے غیر مادی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل ہوا، جبکہ یلدا/چلّہ 2022 میں شامل ہو چکی تھی۔ قابلِ اطلاق قانون برائے فروغِ فضیلت و انسدادِ رذیلت کے تحت نوروز منانا ممنوع ہے؛ 21 مارچ 2026 کو دوبارہ تنبیہات جاری کی گئیں۔ یلدا پر پابندی کا اعلان 24 دسمبر 2023 کو ہوا اور بعد میں اسے انہی ضابطوں میں شامل کیا گیا۔ نفاذ خطے کے لحاظ سے مختلف ہے؛ کابل میں ایک مزار سے خواتین کو واپس بھیجا گیا جبکہ مردوں کو داخلے کی اجازت تھی۔ خاندانی رسوم رشتوں، سماجی مدد، ثالثی اور شادی کے انتظامات کی تشکیل کرتی ہیں۔ منگنی (نامزادی) اسلامی نکاح کے معاہدے سے پہلے ہو سکتی ہے۔ شادی کے وقت شادی کی نیت کا باہمی اظہار (ایجاب و قبول) اور گواہ مذہبی اثر والے طریقۂ کار کا حصہ ہوتے ہیں۔ 2021 کے فرمان کے تحت بالغ عورت کی رضامندی ضروری ہے، اور طے شدہ حقِ مہر (مہر) عورت کا ہے۔ 2025 کے فرمان نے شادی سے متعلق مطالبات (ولور، ببئیری، تویانہ اور خوشی) نیز کھانے یا لباس کے اضافی مطالبات ممنوع کیے۔ اسی فرمان کا ہدف حد سے زیادہ مہر، مہنگے ہوٹل اور گاڑیاں، مخلوط تقریبات، موسیقی، رقص اور شادیوں میں فائرنگ بھی ہے۔ نفاذ مقامی طور پر مختلف رہتا ہے۔ ان دفعات کے باوجود جبری اور کم عمری کی شادیاں جاری ہیں؛ قرض یا تنازعہ نمٹانے کے لیے لڑکی یا عورت کو منتقل کرنا (بد) اب بھی رپورٹ ہوتا ہے۔ تقابلی رپورٹس میں 2024 کے 323 اور 2025 کے 746 واقعات درج ہیں؛ یہ اعداد ملک گیر پھیلاؤ کا تخمینہ نہیں۔ ماتم اور تعزیت کی رسم (تعزیہ) میں فرمان کے تحت تدفین سمیت تین دن کا سوگ شامل ہے۔ پڑوسیوں اور رشتہ داروں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ سوگوار گھرانے کو کھانے میں مدد دیں؛ چندہ یا خیرات لازم نہیں۔ فوت شدہ عورت کے قبرستان کا انتخاب مقامی رواج کے مطابق ہوتا ہے اور شوہر یا بچوں کی سمت سے متاثر ہو سکتا ہے؛ اسے جبراً پدری خاندان کے قبرستان منتقل کرنے کی مخالفت کی گئی۔ لباس علاقائی اور نسلی شناخت کو روزمرہ زندگی اور تقریبات سے جوڑتا ہے۔ عام لباس میں شلوار قمیص، کڑھائی والے ملبوسات، مختلف کپڑے، زیورات اور سر ڈھانپنے کے لباس شامل ہیں۔ پشتون، تاجک، ہزارہ، ازبک، ترکمن، نورستانی اور پشائی برادریاں مختلف انداز اور مواد استعمال کرتی ہیں۔ موجودہ ضابطے عوامی لباس اور شرکت کو محدود کرتے ہیں، خاص طور پر خواتین اور لڑکیوں کے لیے: گھر سے باہر جسم اور چہرہ ڈھانپنے کے تقاضے ہیں، جبکہ محرم ساتھی اور صنفی علیحدگی تقریبات تک رسائی متاثر کر سکتے ہیں۔ مردوں کے لیے داڑھی اور اسلامی وضع قطع سے متعلق تقاضے ہیں۔ اس لیے موروثی لباس اور موجودہ ریاستی پابندیوں کا الگ الگ جائزہ لینا چاہیے۔ تاروں والا ساز رباب، جو شہتوت کی لکڑی سے بنایا جاتا ہے، افغان اور علاقائی موسیقی کی مستحکم روایت ہے۔ تجربہ کار استاد اکثر اس کی تیاری اور بجانے کا ہنر عملی تعلیم کے ذریعے اور خاندانوں میں منتقل کرتے ہیں۔ رباب کی موسیقی شادیوں، تقریبات، سوگ، محفلوں اور روایتی علاج سے وابستہ ہے؛ ساتھ ہی حکام شادیوں، ذرائع ابلاغ اور گاڑیوں میں موسیقی پر پابندیاں لگاتے ہیں، اور گرفتاریوں و متعلقہ ہدایات کی اطلاعات درج ہوئی ہیں۔ اس لیے عوامی پرفارمنس کے لیے ملک گیر محفوظ موقع فرض نہیں کیا جا سکتا۔ قالین بافی کو بامیان سمیت متعدد جگہوں پر بڑی علاقائی اہمیت حاصل ہے اور یہ خاندان یا کارگاہ کی محنت کو آمدنی اور مقامی منڈیوں سے جوڑتی ہے؛ درج شدہ منصوبوں میں اکثر خواتین اور دیگر کمزور گروہ شامل ہیں۔ روایتی ریشم سازی میں شہتوت کے درختوں سے ریشم کے کیڑوں اور کوکون تک، پھر ریشم نکالنے، دھاگا بنانے، رنگنے اور بُننے کے مراحل شامل ہیں۔ ریشمی کپڑے، قالین، دری اور پردے شادیوں، سوگ کی تقریبات اور خاندانی اجتماعات میں استعمال ہو سکتے ہیں۔ بہزاد کے انداز کی مصوری نجی کارگاہوں، گیلریوں، جامعات اور سرکاری یا نجی اداروں میں شاگردی اور عملی تربیت کے ذریعے منتقل ہوتی ہے؛ یہ کہانیاں، اساطیر اور اقدار بھی بیان کرتی ہے۔ نورستانی لکڑی کی نقش کاری نقل مکانی، تنازعات اور روایتی مواد و تعمیراتی طریقوں کی جگہ نئے طریقوں کے باعث کمزور ہوئی ہے؛ درج شدہ بہت سے دستکار اب کابل میں کام کرتے ہیں۔ کڑھائی، کپڑے کا فن، زیورات اور دھات کا کام بدستور بنیادی طور پر علاقائی، خاندانی یا دستکاری کی صورتیں ہیں۔ تنازعات، نقل مکانی، شہری کاری، منڈی کی تبدیلی اور سستے متبادل مواد سے ہنر آگے منتقل کرنا مشکل ہوتا ہے۔ میلوں، موسیقی، تصاویر اور خواتین و لڑکیوں کی عوامی شرکت پر پابندیاں بھی روایت کی نمائش اور عمل کو متاثر کرتی ہیں۔ UNESCO ثقافتی تحفظ پر مشکل حالات اور قدرتی آفات کے اثرات کی بھی نشاندہی کرتا ہے۔ اس لیے تسلسل خاص طور پر گھروں، مقامی برادریوں اور کارگاہوں میں دکھائی دیتا ہے۔ ریاستی ضابطوں اور عوامی رسائی کی معلومات 4 ستمبر 2026 کی صورت حال بیان کرتی ہیں۔
افغانستان میں روایات
افغانستان کی روایات میں خاندانی زندگی، سالانہ تقویم، لباس، موسیقی اور دستکاری سے متعلق موروثی رسوم، علامات اور اظہار کے طریقے شامل ہیں۔ یہ زیادہ تر گھرانوں، محلوں، مذہبی اور سماجی برادریوں اور کارگاہوں میں آگے منتقل ہوتی ہیں۔ ان کا رواج خطے، نسلی گروہ، شہری یا دیہی ماحول اور موجودہ ریاستی ضابطوں کے مطابق مختلف ہوتا ہے۔
VivAVia can make mistakes. Check important information.

