موجودہ فوجداری قانونی ڈھانچے کی تشکیل بنیادی طور پر 5 جنوری 2026 کے فرمان نمبر 12 سے ہوتی ہے، جسے سپریم کورٹ نے 7 جنوری کو بھیجا اور مئی 2026 میں سرکاری گزٹ نمبر 1486 کے طور پر شائع کیا گیا۔ فرمان میں 119 دفعات ہیں اور ان کے نفاذ کی ذمہ داری اسلامی امارت افغانستان کی عدالتوں کو دی گئی ہے۔ 2004 کا آئین اور جمہوریہ دور کے قوانین موجودہ عمل کے لیے قابلِ اعتماد بنیاد نہیں، اگرچہ ورثے میں ملے قوانین کردار ادا کرتے رہ سکتے ہیں۔ یہ درجہ بندی 4 ستمبر 2026 تک تحقیق شدہ صورت حال بیان کرتی ہے؛ کسی خاص فیصلے سے پہلے متن اور اطلاق دوبارہ جانچیں۔ فوجداری مقدمات عموماً ابتدائی عدالتوں، اپیل کی عدالتوں اور عملاً فعال سپریم کورٹ میں چلتے ہیں۔ اس کا فوجداری شعبہ صوبوں کے مقدمات کا جائزہ جاری رکھتا ہے۔ اطلاع کے مطابق جمہوریہ دور کی خصوصی عدالتیں اور یونٹ ختم کر دیے گئے یا نمایاں طور پر بدل گئے۔ پولیس اور سکیورٹی ادارے تفتیش کرتے ہیں، اور جنرل ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلیجنس گرفتاریوں اور حراست میں بھی شامل ہو سکتا ہے۔ طریقۂ کار، حراست کا جائزہ، تحویلِ شواہد کا سلسلہ، استغاثہ کا کردار اور زبردستی اعتراف سے تحفظ غیر شفاف رہتے ہیں۔ UNAMA نے من مانی گرفتاریوں، حراست اور تشدد یا دیگر بدسلوکی کے واقعات درج کیے۔ جن جرائم کا احاطہ ہے، ان میں دیگر چیزوں کے علاوہ قتل، جسمانی چوٹ، چوری، شادی سے باہر جنسی تعلقات، ہم جنس افعال، شراب، جوا، منشیات، عوامی یا اخلاقی خلاف ورزیاں، حکام یا ان کی پالیسیوں پر تنقید، جعل سازی، اشیا میں ملاوٹ، غیر مجاز سرگرمیاں، اور منشیات کی کاشت، اسمگلنگ اور نقل و حمل شامل ہیں۔ فرمان نمبر 12 کا مقصد، دیگر باتوں کے ساتھ، عملاً حکام اور ان کی پالیسیوں پر تنقید کی فوجداری ذمہ داری میں توسیع کرنا ہے۔ مخصوص جرم اور ثبوت کے تقاضوں کے لیے دری یا پشتو کا اصل متن مستند ہے۔ سزاؤں کی اہم اصطلاحات مقررہ سزائیں (حدود)، قصاص یا مساوی تلافی، تعزیری سزائیں (تعزیر) اور خون بہا (دیت) ہیں۔ قتل یا شدید چوٹ کے بعد قصاص میں بدلہ، مالی معاوضہ یا متاثرہ شخص کے خاندان کی معافی شامل ہو سکتی ہے۔ مقدمے کے مطابق تعزیر میں مشاورت یا تنبیہ، طلبی، حراست، جسمانی سزا اور املاک کی تباہی شامل ہو سکتی ہے۔ عوامی سزائے موت اور کوڑے مارنے کے واقعات درج ہوئے ہیں۔ 2025 میں UNAMA نے عدالتی جسمانی سزا کے کم از کم 943 واقعات ریکارڈ کیے، جن میں پانچ لڑکے اور چھ لڑکیاں شامل تھیں؛ چوتھی سہ ماہی میں کم از کم 287 واقعات تھے۔ چوتھی سہ ماہی کی رپورٹ میں UNAMA نے 15 اگست 2021 سے اب تک بارہ عوامی سزائے موت درج کی تھیں۔ جیل انتظامیہ فوجداری اور اصلاحی نفاذ، نیز بحالی اور معاشرے میں دوبارہ شمولیت کی ذمہ دار ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق جنوری 2025 کے آخر میں تقریباً 25,500 افراد حراست میں تھے، جن میں تقریباً 1,900 خواتین، 450 ساتھ رہنے والے بچے اور 1,400 کم عمر افراد شامل تھے۔ UNAMA اور OHCHR کے دوروں سے جیلوں تک رسائی بہتر ہوئی ہے، لیکن اس سے ملک بھر میں یکساں طریقۂ کار ثابت نہیں ہوتا۔ متاثرین پولیس، عدالتوں، وزارتِ عدل کی قانونی امداد، وزارتِ امر بالمعروف و نہی عن المنکر یا مقامی جرگوں اور شوریٰ سے رجوع کر سکتے ہیں۔ پولیس، عدالتوں، عدالتی حکام یا برادری کے نمائندوں کی ثالثی خواتین کے خلاف تشدد اور سنگین معاملات میں بھی ہوتی ہے۔ یہ قابلِ اعتماد فوجداری جواب دہی کا متبادل نہیں اور خاص طور پر صنفی تشدد میں دباؤ ڈال سکتی ہے۔ رسمی تنازعہ حل کرنے والے اداروں تک خواتین کی رسائی مردوں سے خاصی کم ہے؛ 2025 کے آخر کی مشاورت میں یہ تناسب بالترتیب 14 فیصد اور 53 فیصد تھا۔ غیر رسمی کارروائیوں پر زیادہ تر مردوں کا اختیار ہوتا ہے اور یہ ہر متاثرہ شخص کے لیے محفوظ یا موزوں نہیں۔ وزارتِ عدل کا قانونی امداد ڈائریکٹوریٹ غریب ملزمان، مدعا علیہان اور متاثرین کو مفت مشورہ یا نمائندگی دے سکتا ہے۔ درخواست اور ضرورت کا جائزہ متوقع ہے؛ ہاٹ لائن نمبر 188 ہے۔ حقیقی دستیابی علاقے کے لحاظ سے مختلف ہوتی ہے، اور قانونی مشیر یا وکیل کے طور پر کام کرنے والی خواتین پر خاصی پابندیاں ہیں۔ کارروائی کے اخراجات یا دورانیے کے قابلِ اعتماد ملک گیر اوسط دستیاب نہیں۔ بچوں کے لیے ورثے میں ملے 2017 کے فوجداری ضابطے میں فوجداری ذمہ داری کی کم از کم عمر بارہ سال مقرر ہے اور خصوصی طریقۂ کار کے تحفظات اور متبادل فراہم کیے گئے ہیں۔ یہ واضح نہیں کہ آج ان قواعد کا مستقل نفاذ ہوتا ہے یا نہیں۔ نوعمر عدالتیں ختم یا کم ہوتی دکھائی دیتی ہیں، جبکہ نوعمر اصلاحی اور بحالی مراکز کا ریکارڈ موجود ہے۔ بالغوں سے علیحدگی، عمر کا تعین اور بچوں کے لیے حساس طریقۂ کار کے حقوق ہر جگہ قابلِ اعتماد طور پر یقینی نہیں۔ ٹریفک سے متعلق فوجداری قانون ٹریفک قانون پر مبنی ہے اور دیگر چیزوں کے علاوہ اجازت ناموں، ڈرائیونگ لائسنس، ٹریفک پولیس، مسافر اور مال برداری، معاوضے، بیمے، فیس اور جرمانوں کا احاطہ کرتا ہے۔ ذمہ داری ٹریفک ڈائریکٹوریٹ یا ٹریفک پولیس کی ہے۔ جرمانوں کا موجودہ جدول، اپیل کا طریقہ اور صوبوں میں عمل قابلِ اعتماد طور پر شائع نہیں ہوئے۔ شہری ہرجانے کے دعوے مکمل طور پر فوجداری کارروائی کا حصہ نہیں ہوتے۔ سائبر جرائم کے لیے وزارتِ مواصلات کے ذریعے دستیاب فوجداری ضابطے کے آرٹیکلز 851 سے 879 میں غیر مجاز رسائی، نظام یا ڈیٹا میں تبدیلی، نقصان دہ سافٹ ویئر، الیکٹرانک جعل سازی اور دھوکا دہی، سائبر چوری، ممنوعہ انفارمیشن ٹیکنالوجی، سائبر دہشت گردی، جاسوسی، فحش مواد اور غیر قانونی سم کارڈوں سے متعلق دفعات ہیں۔ متعدد جرائم کے لیے درمیانی مدت کی قید یا 60,000 سے 300,000 AFN جرمانہ درج ہے؛ فحش مواد کے لیے درج سزا دو سال تک قید یا 60,000 سے 120,000 AFN تک جرمانہ ہے۔ فرمان نمبر 12 کے بعد یہ دفعات نافذ رہتی ہیں یا نہیں، حتمی طور پر ثابت نہیں۔ افغانستان شہری و سیاسی حقوق کے بین الاقوامی عہدنامے، انسدادِ تشدد کے کنونشن، حقوقِ طفل کے کنونشن اور خواتین کے خلاف ہر قسم کے امتیاز کے خاتمے کے کنونشن کا فریق ہے؛ بین الاقوامی رپورٹس فرمان نمبر 12 اور جسمانی سزا کو ان انسانی حقوق کی ذمہ داریوں سے متصادم قرار دیتی ہیں۔
افغانستان میں فوجداری قانون
افغانستان میں فوجداری قانون جرائم، ذاتی ذمہ داری، تفتیش، عدالتی کارروائی، سزاؤں اور ملزمان، سزا یافتہ افراد اور متاثرین کے حقوق کا ضابطہ ہے۔ موجودہ عمل میں شریعت اور حنفی تشریحات، فرامین، سرکاری گزٹ میں شائع قواعد اور استعمال میں رہنے والے پرانے قوانین شامل ہیں۔ اطلاق خطے کے لحاظ سے مختلف ہوتا ہے اور کئی کارروائیوں میں اسے سمجھنا مشکل رہتا ہے۔
VivAVia can make mistakes. Check important information.

