18 سال سے کم عمر بچوں کو بچوں کے حقوق کے کنونشن کا تحفظ حاصل ہے، لیکن عمر سے متعلق ضابطے اور ان کا نفاذ قانونی معاملے کے لحاظ سے مختلف ہیں۔ محکمہ رجسٹریشنِ آبادی کے ذریعے پیدائش کا اندراج، جسے سول رجسٹریشن اتھارٹی یا اہم شماریاتی نظام بھی کہا جاتا ہے، عمر کی تصدیق اور اسکول، تحفظ، رسمی خدمات اور بعد کے روزگار تک رسائی میں مدد دیتا ہے؛ 2022–23 کے MICS کے مطابق پانچ سال سے کم عمر 58% بچوں کے پاس پیدائش کا سرٹیفکیٹ نہیں تھا۔ تذکرہ یا ای تذکرہ حاصل کرنے کے عمل میں مقامی تصدیق، تصاویر، بایومیٹرک اندراج اور کسی مرد رشتہ دار کی دستاویزات شامل ہو سکتی ہیں؛ طریقۂ کار مقام اور خاندانی حالات کے لحاظ سے بدلتے ہیں۔ بچوں کے لیے رسمی پرائمری تعلیم بنیادی تعلیمی راستہ ہے۔ 2022 سے لڑکیوں کو ثانوی تعلیم سے خارج رکھا گیا ہے اور بعد کی پابندیوں کے تحت اعلیٰ تعلیم سے بھی؛ یونیسیف نے 2025 میں بتایا کہ پرائمری سطح سے آگے تعلیم سے 2.2 ملین لڑکیاں محروم تھیں۔ کمیونٹی پر مبنی تعلیم، تیز رفتار کلاسیں اور دوسرے غیر رسمی پروگرام سیکھنے کے متبادل فراہم کر سکتے ہیں، لیکن وہ خود بخود رسمی اسکول جیسی اگلی سطح تک رسائی یا سند کی شناخت نہیں دیتے۔ فاصلہ، غربت، عدم تحفظ، نقل مکانی، معذوری، دستاویزات کی کمی اور خواتین اساتذہ کی قلت رسائی محدود کر سکتی ہے۔ اقوامِ متحدہ کے پروگراموں میں نوجوانی کو عموماً تقریباً 10 سے 19 سال کی عمر سمجھا جاتا ہے، مگر افغانستان میں کوئی ایک مصدقہ قانونی عمر کی حد تمام شعبوں پر لاگو نہیں۔ نوجوان اکثر تعلیم، ہنر کی تربیت، غیر رسمی کام، شادی، والدین بننے اور نقل مکانی کے درمیان کسی قابلِ پیش گوئی رسمی راستے کے بغیر آگے بڑھتے ہیں۔ لڑکیوں کو تعلیم، کام، نقل و حرکت اور عوامی شرکت پر پابندیوں کا سامنا ہے؛ لڑکوں کو بچوں سے مشقت، نقل مکانی، بھرتی اور تحفظ سے متعلق بڑھتے خطرات لاحق ہیں۔ نوجوانوں کے پروگرام، کمیونٹی اقدامات اور UNFPA کی یوتھ ہیلتھ لائن جیسی خدمات منصوبوں پر منحصر ہیں، اس لیے مقامی دستیابی کی تصدیق ضروری ہے۔ بالغ زندگی زیادہ تر غیر رسمی کام، گھر کی ذمہ داریوں اور خاندانی مدد کے گرد منظم ہے۔ روزگار تک رسائی غربت، صنف، مقام، دستاویزات، سلامتی اور نقل مکانی سے واپسی کی صورت پر منحصر ہے۔ پیشہ ورانہ تربیت، گھر سے کام اور کمیونٹی کے روزگار کے مواقع عملی متبادل بن سکتے ہیں، مگر ان کا پیمانہ اور شناخت محدود ہے۔ تعلیم، روزگار اور عوامی شرکت پر خواتین کی پابندیاں ان کے لیے زندگی کے کئی اگلے مراحل کو شدید طور پر محدود کرتی ہیں۔ شادی، حمل اور والدین بننے سے رہائش، آمدنی، نقل و حرکت اور خدمات تک رسائی بدل سکتی ہے۔ 2022–23 کے MICS نے بتایا کہ 20 سے 49 سال کی 38.9% خواتین نے 18 سال کی عمر سے پہلے پہلی شادی کی تھی، اور صوبوں کے درمیان فرق خاصا تھا۔ غربت، اسکول سے اخراج اور نقل مکانی کم عمری یا جبری شادی کا خطرہ بڑھا سکتے ہیں۔ نکاح، خاندانی بزرگ، مذہبی شخصیات اور روایتی طریقۂ کار غیر رسمی طور پر شادی کا انتظام یا معاونت کر سکتے ہیں، مگر رجسٹریشن، رضامندی اور تحفظ کے نتائج مختلف ہیں؛ افغانستان بھر میں شناخت یا نفاذ کے بارے میں کوئی عمومی دعویٰ لاگو نہیں ہوتا۔ عمر رسیدہ افراد عموماً خاندان، رشتہ داروں، پڑوسیوں اور کمیونٹی کی مدد پر انحصار کرتے ہیں۔ افغانستان میں ملک گیر عالمگیر بڑھاپا پنشن یا قابلِ رسائی درجہ بند طویل مدتی نگہداشت کا کوئی ثابت شدہ نظام نہیں۔ سرکاری ملازمین اور سکیورٹی اداروں کی پرانی پنشن اسکیموں نے افرادی قوت کے محدود حصے کو احاطہ کیا؛ 2021 کے بعد ادائیگی یا اصلاحات کے انتظامات غیر یقینی ہیں۔ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر نقد، خوراک یا رہائش کی مدد کمزوری کی حالت میں سہارا دے سکتی ہے، مگر یہ باقاعدہ پنشن نہیں۔ نگہداشت پر انحصار عموماً گھرانوں میں سنبھالا جاتا ہے، اکثر خواتین رشتہ داروں کے ذریعے؛ کمیونٹی رضاکار اور معذوری کو شامل کرنے والی انسانی ہمدردی یا غیر سرکاری تنظیموں کی خدمات صرف کچھ مقامات پر دستیاب ہیں۔ معذوری ہر عمر اور زندگی کے ہر مرحلے کو متاثر کر سکتی ہے۔ ٹرانسپورٹ، ناقابلِ رسائی سہولتیں، بدنامی، رابطے کی رکاوٹیں، اخراجات، دستاویزات کی کمی اور صنفی پابندیاں تعلیم، کام، نگہداشت اور تحفظ تک رسائی روک سکتی ہیں۔ دستیاب تحقیق میں افغانستان کے لیے ملک بھر میں یکساں مراعت یا نگہداشت کی ضمانت ثابت نہیں، اس لیے مناسب سہولتوں اور مقامی خدمات کی ہر معاملے میں تصدیق ضروری ہے۔ نقل مکانی، واپسی، خشک سالی، زلزلے، تنازع سے متعلق عدم تحفظ، غربت اور خوراک یا آمدنی کے جھٹکے تعلیم، روزگار، شادی کے وقت، نگہداشت اور خاندانی یکجہتی میں خلل ڈال سکتے ہیں۔ UNHCR نے 2025 میں تقریباً 2.9 ملین واپسیوں کی اطلاع دی، جن میں جبری واپسی بھی شامل تھی۔ واپس آنے والے بچوں اور نوجوانوں کے پاس دستاویزات، رہائش، اسکول تک رسائی، روزگار یا مقامی نیٹ ورک نہ ہو سکتے ہیں۔ عملی مدد میں خاندان کا سراغ لگانا اور دوبارہ ملاپ، تحفظ کے لیے رجوع، رہائش، تعلیم کا تسلسل، سول دستاویزات اور محکمہ مہاجرین و وطن واپسی، اقوامِ متحدہ کے اداروں یا تسلیم شدہ غیر سرکاری تنظیموں کے ذریعے روزگار کی مدد شامل ہو سکتی ہے۔ رسائی پروگرام، فنڈنگ اور ضلع پر منحصر ہے؛ مقامی بزرگ، شوریٰ اور مذہبی رہنما رسائی یا مدد میں معاون ہو سکتے ہیں، لیکن رسمی تحفظ یا نظامِ انصاف جیسی ہی حقوقی قوت فراہم نہیں کرتے۔
افغانستان میں زندگی کے مراحل
افغانستان میں زندگی کے مراحل عمر، خاندانی کردار، تعلیم، کام، شادی، نقل مکانی اور دستاویزات و خدمات تک رسائی سے تشکیل پاتے ہیں۔ خاندان اور کمیونٹی کے نیٹ ورک اکثر رہائش، آمدنی، نگہداشت اور تحفظ فراہم کرتے ہیں، جبکہ رسمی مدد بکھری ہوئی ہے اور صوبے، صنف، سلامتی اور شہری یا دیہی مقام کے لحاظ سے بدلتی ہے۔ تنازع، غربت اور نقل مکانی تعلیم، روزگار، نگہداشت اور خاندانی استحکام میں خلل ڈال سکتے ہیں۔
VivAVia can make mistakes. Check important information.

