افغانستان میں سرمایہ کار عموماً کاروبار سے آمدنی، سرمائے میں اضافہ، افغانی اور غیر ملکی کرنسی میں تنوع کے ذریعے قدر محفوظ رکھنے، یا دولت کی منصوبہ بند منتقلی کے خواہاں ہوتے ہیں۔ مقامی طور پر متعلق مواقع میں چلتی کمپنی میں براہِ راست ایکویٹی، سرکاری و نجی شراکت یا منصوبے کی مالی اعانت، صنعتی پارکوں میں زمین کا لیز، زراعت، کان کنی، ہائیڈروکاربن، توانائی، تعمیرات، ٹرانسپورٹ، ٹیلی کام، اطلاعاتی ٹیکنالوجی اور صنعتی پیداوار شامل ہیں۔ کاروبار میں براہِ راست سرمایہ کاری مقامی طور پر عملی ہے، لیکن اس میں ارتکاز زیادہ اور سرمایہ نکالنا اکثر مشکل ہوتا ہے؛ منصوبوں میں سرمایہ کاری معاہدوں، مراحل اور اجازت ناموں پر منحصر ہے۔ اسلامی بینکاری اور منافع میں شراکت باقاعدہ متبادل دے سکتے ہیں، لیکن شرائط، نقد پذیری، رقم نکلوانا، نقصان کی تقسیم اور شرعی نگرانی ہر بینک یا شعبے کے لحاظ سے مختلف ہے۔ غیر ملکی کرنسی، سونا اور قیمتی پتھر اپنے پاس رکھنا قدر محفوظ رکھنے یا قیاس آرائی میں مدد دے سکتا ہے، لیکن یہ منضبط خوردہ پورٹ فولیو نہیں بناتے اور انہیں محفوظ طریقے سے فروخت یا منتقل کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ غیر ملکی سرمایہ کار کو عموماً وزارتِ صنعت و تجارت سے سرمایہ کاری یا تجارتی لائسنس اور افغانستان کے مرکزی کاروباری رجسٹر اور دانشورانہ ملکیت میں رجسٹریشن درکار ہوتی ہے۔ دستیاب قانونی شکلوں میں انفرادی کاروبار، محدود شراکت داری، ضمانتی شراکت داری اور محدود ذمہ داری کمپنی شامل ہیں۔ ٹیکس شناختی نمبر کی کارروائی وزارتِ مالیات کے ساتھ رجسٹریشن میں ہوتی ہے، جبکہ منضبط سرگرمیوں کے لیے اضافی شعبہ جاتی منظوری درکار ہے۔ غیر ملکی سرمایہ کار کی درخواست میں دفتر کا ثبوت، پاسپورٹ یا تذکرہ، کاروباری منصوبہ، کمپنی کے قواعد اور دیگر دستاویزات، بینک اکاؤنٹ، ٹیکس شناختی نمبر اور نمائندے کی اجازت درکار ہو سکتی ہے۔ حکومت کی جانب سے اعلان کردہ منصوبہ خطِ دلچسپی کے بعد سرمایہ کاری ڈائریکٹوریٹ، تکنیکی جائزے، ابتدائی معاہدے اور شعبہ جاتی معاہدے یا لائسنس کے مراحل سے گزر سکتا ہے۔ سرمایہ کار کی تجویز کردہ منصوبہ بندی میں جائزے اور منظوری سے پہلے عموماً تکنیکی، اقتصادی، مالی اور قانونی دستاویزات درکار ہوتی ہیں۔ کان کنی کے منصوبوں میں وزارتِ کان کنی و پیٹرولیم کے ٹینڈر، پیشگی اہلیت اور معاہدے کے طریقے لاگو ہوتے ہیں۔ مدت شعبے اور معاملے پر منحصر ہے؛ کارروائی کے لیے کوئی آفاقی مدت ثابت نہیں۔ غیر ملکی سرمایہ کار کی وی یو اے درخواست آمد سے سات دن پہلے درج ہے اور ایک بار داخلے کی مدت 30 دن ہے؛ توسیع لائسنس اور ورک پرمٹ کی شرائط پر منحصر ہو سکتی ہے۔ مکمل غیر ملکی ملکیت والے منصوبے کے لیے جسمانی موجودگی درکار ہو سکتی ہے، جبکہ مقامی شریک کے ساتھ انتظام دور سے شروع ہو سکتا ہے۔ درج شدہ فیس کی مثالیں کئی سرگرمیوں کے لیے 18,500 افغانی، بڑے پیمانے کی کان کنی کے لیے 202,500 افغانی، تیل و گیس کے لیے 302,500 افغانی اور سکیورٹی سرگرمیوں کے لیے 1,002,500 افغانی ہیں۔ درخواست دیتے وقت فیس اور دستاویزات کی تصدیق کریں؛ قانونی، شعبہ جاتی، ٹیکس، بینکنگ، زرمبادلہ، سلامتی، بجلی، جنریٹر، ٹرانسپورٹ اور جانچ پڑتال کے اخراجات اس کے علاوہ خاصے زیادہ ہو سکتے ہیں۔ افغانستان بینک، یعنی مرکزی بینک، 12 فعال بینک درج کرتا ہے: تین سرکاری، سات نجی اور دو غیر ملکی بینکوں کی شاخیں۔ یہ بینکوں، زرمبادلہ ڈیلروں، رقوم کی منتقلی فراہم کرنے والوں، الیکٹرانک رقم کے اداروں اور ادائیگی کے اداروں کو لائسنس اور نگرانی دیتا ہے۔ موبائل منی اور الیکٹرانک رقم کی خدمات ادائیگی اور نقد جمع یا نکلوانے میں مدد دیتی ہیں، لیکن سرمایہ کاری کے اثاثوں کی تحویل نہیں۔ بینک ڈپازٹ تحفظ کا ایک شعبہ موجود ہے، تاہم دستیاب تحقیق میں متعلقہ تحفظ کی رقم طے نہیں۔ افغانستان کے اسلامی بینکاری ضوابط اور مضاربہ رہنمائی اسلامی بینکاری کی بنیاد فراہم کرتے ہیں، مگر ہر ادارہ اپنی مصنوعات کی شرائط اور خطرے کی تقسیم خود طے کرتا ہے۔ دستیاب تحقیق میں افغانستان کے اندر فعال اسٹاک ایکسچینج یا مرکزی سیکیورٹیز ڈیپازٹری، عوامی خوردہ حصص یا بانڈ مارکیٹ، مقامی خوردہ بروکر یا ثانوی مارکیٹ میں قائم شدہ نقد پذیری اور سرمایہ کار کے تحفظ کا ایسا راستہ نہیں ملا جو ترقی یافتہ خوردہ مارکیٹ کے برابر ہو۔ افغانستان بینک کا سیکیورٹیز سے متعلق اختیار اور سرکاری کیپیٹل نوٹس عام خوردہ پورٹ فولیو تک رسائی نہیں بناتے۔ مقامی طور پر غیر فعال فہرست شدہ تنوع کے شواہد نہیں؛ بیرونی مارکیٹ یا تحویل کار یہ سہولت دے سکتا ہے، بشرطیکہ غیر ملکی قانون، پابندیوں، بینکنگ رسائی اور منتقلی کی حدود کے مطابق ہو۔ عملی پورٹ فولیو میں کاروباری سرمایہ، نقدی ذخائر اور طویل مدت کے اثاثے الگ رکھیں، پھر شعبے، فریقِ معاملہ، کرنسی اور جہاں قانونی طور پر ممکن ہو افغانستان سے باہر جغرافیے کے لحاظ سے تنوع لائیں۔ بہت سے اثاثوں کے لیے مقامی روزانہ قیمت یا مارکیٹ معیار قابلِ اعتماد طور پر دستیاب نہیں۔ 2025 کے حکم 4088 کے تحت لین دین کے لیے افغانی لازم ہے۔ نقد رقم کی درج شدہ حد ہوائی اڈے کے ذریعے 5,000 امریکی ڈالر اور زمینی سرحد کے ذریعے 500 امریکی ڈالر ہے۔ فِن ٹریکا اور کسٹمز کے ضوابط میں نقد، حامل کے نام قابلِ انتقال مالی دستاویزات، سونا، قیمتی دھاتوں اور قیمتی پتھروں کے اعلانات درکار ہو سکتے ہیں، اس لیے سرمایہ کار رقم لانے، لے جانے یا واپس بھیجنے کو بلا رکاوٹ نہ سمجھیں۔ پابندیوں کی جانچ سرمایہ کار، حقیقی مالکان، بینکوں، منصوبوں، فریقین اور رقم کے طے شدہ استعمال پر لاگو ہونی چاہیے۔ اقوام متحدہ کے 1988 کے نظام میں نامزد طالبان سے وابستہ افراد اور اداروں پر اثاثے منجمد کرنے، سفری پابندیوں اور اسلحہ پابندی کے اقدامات شامل ہیں۔ امریکی افراد کو اوفیک کے افغانستان سے متعلق قواعد پر عمل کرنا ہوگا؛ عمومی اجازت نامہ 20 کچھ تجارتی معاملات کی اجازت دیتا ہے، لیکن طالبان، حقانی یا پابندی شدہ افراد کی کم از کم 50 فیصد ملکیت والے اداروں کو منتقلی کی اجازت نہیں دیتا، سوائے محدود ٹیکس، فیس، اجازت ناموں اور یوٹیلیٹی ادائیگیوں کے۔ بینک کسی لین دین کو روک سکتا ہے، چاہے سرمایہ کار اسے دوسری صورت میں قانونی سمجھتا ہو۔ باقاعدہ کاروباروں کو نمایاں عملی خطرات درپیش ہیں۔ عالمی بینک کے انٹرپرائز سروے 2025 میں 44 فیصد اداروں نے بجلی کو بڑی یا نہایت شدید رکاوٹ بتایا؛ کاروباروں نے ماہانہ اوسطاً 13 بار بجلی بند ہونے اور فروخت میں اندازاً چھ فیصد نقصان کی اطلاع دی، جبکہ 60 فیصد کے پاس جنریٹر تھا۔ رپورٹ شدہ حالات میں سرمایہ کاری کا صرف 0.28 فیصد بینک سے مالی اعانت یافتہ تھا، جبکہ مالیات تک رسائی ایک بڑی رکاوٹ تھی؛ اسی سروے میں 35.2 فیصد کاروبار تربیت میں سرمایہ لگاتے، فروخت میں اوسط 21 فیصد اور روزگار میں 13 فیصد اضافہ رپورٹ ہوا۔ یہ اعداد کاروباری ماحول بیان کرتے ہیں، متوقع سرمایہ کاری منافع نہیں۔ انتخاب میں رجسٹریشن، حقیقی مالکان اور پابندیوں کی جانچ، شعبہ جاتی اجازت، ملکیت یا لیز کے حقوق، رعایتی معاہدے، آڈٹ شدہ حسابات، نقد بہاؤ، افغانی اور امریکی ڈالر کی ادائیگی کے راستے، رقم واپس بھیجنے کے ثبوت، سلامتی، بجلی اور جنریٹر پر انحصار، رسد، مقامی شریک کی دیانت، معاہدے کا نفاذ، خریدار اور اخراج کا امکان، منتقلی کی صلاحیت، اور مقامی برادری، کارکنوں اور ماحول پر اثرات شامل کریں۔
افغانستان میں سرمایہ کاری
افغانستان میں سرمایہ کاری زیادہ تر چلتے ہوئے کاروبار، منصوبوں، زمین کے لیز، زراعت، کان کنی، توانائی، تعمیرات، ٹرانسپورٹ، ٹیلی کام، اطلاعاتی ٹیکنالوجی اور صنعتی پیداوار میں براہِ راست سرمایہ لگانے پر مشتمل ہے۔ اسلامی منافع میں شراکت اور غیر ملکی کرنسی، سونا یا قیمتی پتھر اپنے پاس رکھنا مختلف تحویل، نقد پذیری اور قانونی خطرات کے ساتھ عملی متبادل ہیں۔ افغانستان میں فعال عوامی خوردہ حصص یا بانڈ مارکیٹ، مقامی بروکر یا مرکزی سیکیورٹیز ڈیپازٹری کا ثبوت نہیں، اس لیے سرمایہ نکالنا مشکل ہو سکتا ہے اور منافع کی ضمانت نہیں۔
VivAVia can make mistakes. Check important information.

