دری اور پشتو بین العلاقائی ریاستی، تعلیمی، ذرائع ابلاغ اور سماجی رابطے کی تشکیل کرتی ہیں۔ دری اکثر مشترکہ رابطے کی زبان کا کردار ادا کرتی ہے۔ افغانستان کی دیگر زبانوں میں ازبک، ترکمن، بلوچی، پشائی، نورستانی، پامیری، ہزارگی، ایماقی، شغنی، وخی، اشکاشمی، گوجری، براہوی، کرغیزی، مغولی، عربی، اردو اور انگریزی شامل ہیں۔ یہ فہرست مکمل نہیں، اور مقامی نام نیز کسی زبان کو الگ زبان یا لہجہ قرار دینے کی درجہ بندی ماخذ کے لحاظ سے مختلف ہوتی ہے۔ سرکاری زبان وہ زبان ہے جسے ریاستی حکام سرکاری کارروائیوں میں استعمال کرتے ہیں۔ 2004 کا آئین دری اور پشتو کو سرکاری ریاستی زبانیں قرار دیتا ہے۔ جن علاقوں میں متعلقہ لسانی اکثریت ہو، وہاں ازبک، ترکمن، بلوچی، پشائی، نورستانی یا پامیری کو بھی سرکاری زبان کے طور پر استعمال کیا جا سکتا تھا۔ تاہم، وزارتِ عدل اس آئین کو منسوخ شدہ آئینوں میں شمار کرتی ہے۔ اس بنا پر آج نافذ اور پورے ملک میں یکساں طور پر لاگو قانونی حیثیت ثابت نہیں ہوتی۔ دری میں، دیگر کے علاوہ، کابلی اقسام، ہزارگی اور ایماقی شامل ہیں۔ پشتو کو علاقائی طور پر شمالی، وسطی اور جنوبی اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ نسلی وابستگی لازماً کسی مخصوص زبان سے مطابقت نہیں رکھتی۔ 23 اگست 2026 کو ماہر ادارے اور تعلیمی ادارے دری اور پشتو کے املا اور اصطلاحات کو معیاری اور ہم آہنگ بنانے پر کام کر رہے تھے۔ ملک گیر سطح پر نافذ کسی نتیجے کی تصدیق نہیں ہوئی۔ موجودہ انتظامی عمل میں نئے کاروباری لائسنسوں اور عہدوں کے لیے پشتو اور دری کو خاص اہمیت دی جاتی ہے۔ ملک بھر میں یکساں زبان کی خدمت کا کوئی ریکارڈ نہیں ملا۔ علاقائی اکثریت، ذمہ دار ادارہ، دستیاب عملہ اور مقامی سکیورٹی و وسائل کے حالات حقیقتاً زبان تک رسائی بدل سکتے ہیں۔ لہٰذا مقامی اکثریتی زبان اس زبان میں مسلسل خدمت کی ضمانت نہیں۔ وزارتِ تعلیم کی ویب سائٹس کئی جماعتی سطحوں پر دری اور پشتو کی فہرست دیتی ہیں۔ ازبک، بلوچی اور پشائی کی درسی کتابیں جماعت 1 سے 9 تک کے لیے درج ہیں۔ ریاستی پروگراموں میں ماضی میں ترکمن، نورستانی، گوجری، شغنی اور وخی کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ آیا مخصوص علاقے اور اسکول میں واقعی تدریس، اساتذہ اور مواد دستیاب ہیں، اس کی تصدیق ضروری ہے۔ اسکول تک رسائی پر پابندیاں، جن میں لڑکیوں کو ثانوی تعلیم سے خارج کرنا بھی شامل ہے، شرکت کو مزید متاثر کرتی ہیں، لیکن یہ الگ زبان پالیسی نہیں۔ سرکاری نشریاتی ادارے پشتو، دری، ازبک، انگریزی اور عربی میں پروگرام نشر کرنے کی اطلاع دیتے ہیں۔ 2023 میں وزارتِ اطلاعات و ثقافت نے گوجری، پشائی، ترکمن، ازبک، بلوچی اور نورستانی میں سرکاری ماہانہ رسائل کی اطلاع دی۔ اس کے باوجود سنسرشپ، رسائی کی پابندیاں اور ذرائع ابلاغ پر دباؤ، لسانی معلومات اور ثقافتی مواد کی حقیقی دستیابی محدود کر سکتے ہیں۔ آئین کے سابقہ قواعد کے تحت، اگر کارروائی میں شریک کوئی شخص عدالت کی زبان نہ سمجھتا ہو تو عدالتی کارروائی میں مدد فراہم کی جاتی تھی۔ اس کے بعد معلومات، دستاویزات اور کارروائی کو اس شخص کی اپنی مادری زبان میں ترجمے کے ذریعے قابلِ رسائی بنایا جانا تھا۔ ملک گیر مترجمین کی موجودہ رجسٹری یا زبان کی خدمات کے لیے لازم اور یکساں مدتِ کارروائی قائم نہیں کی گئی۔ اتھارٹی کے لحاظ سے نجی ترجمے، مقامی ترجمان، اضافی سفر اور انتظار کا وقت لاگت اور محنت بڑھا سکتے ہیں۔ کوئی عمومی لسانی فیس نہیں ملی۔ افغانستان میں شناخت، ادب، زبانی روایت اور مقامی برادریوں کے اتحاد کے لیے زبان بھی بہت اہم ہے۔ دری اور پشتو عموماً ریاستی اور بین العلاقائی خدمات تک وسیع ترین رسائی فراہم کرتی ہیں۔ مقامی زبانیں اعتماد، ابتدائی رسائی اور ثقافتی تسلسل مضبوط کرتی ہیں، لیکن ادارہ جاتی طور پر اکثر مخصوص خطوں یا مراکز تک محدود رہتی ہیں۔ بولنے والوں کے قابلِ اعتماد موجودہ تناسب اور علاقائی اکثریتوں کا مکمل نقشہ دستیاب نہیں۔
افغانستان میں زبانیں
افغانستان لسانی اعتبار سے کثیر لسانی ملک ہے۔ دری اور پشتو انتظامیہ، تعلیم، ذرائع ابلاغ، ثقافت اور مختلف خطوں کے درمیان رابطے کے لیے دو غالب بین العلاقائی زبانیں ہیں۔ دیگر بولی جانے والی زبانوں میں ازبک، ترکمن، بلوچی، پشائی، نورستانی اور پامیری شامل ہیں۔ حقیقتاً کون سی زبان دستیاب ہے، اس کا انحصار علاقے، ادارے، وسائل اور سکیورٹی کی صورت حال پر ہوتا ہے۔
VivAVia can make mistakes. Check important information.

