موجودہ سیاسی نظام کی قیادت طالبان (Taliban) کے پاس ہے، جو ملک کو افغانستان کی اسلامی امارت کہتے ہیں۔ ہبت اللہ اخوندزادہ اس کے سربراہ ہیں؛ قندھار کو سیاسی مرکز اور کابل کو انتظامی مرکز سمجھا جاتا ہے۔ ریاستی نظم اور انتظامیہ طالبان کی شریعت (sharia) کی تشریح، امیر یعنی طالبان کے اعلیٰ ترین رہنما کے جاری کردہ فرمانوں اور دیگر انتظامی اقدامات پر مبنی ہیں۔ اس لیے حکومتی انتظامات کا تعلق اداروں کے کنٹرول، عوامی انتظامیہ اور تقرریوں سے ہے۔ ووٹنگ سے مراد یہ ہے کہ آیا لوگ کسی دستاویزی انتخابی عمل کے ذریعے عوامی عہدے داروں کا انتخاب کر سکتے ہیں۔ یہ سیاست کے باہم مربوط حصے ہیں، لیکن عملی طور پر حکام کی جانب سے کی گئی تقرری انتخاب نہیں ہوتی۔ آخری باضابطہ طور پر دستاویزی انتخابات 2018 اور 2019 میں ہوئے تھے، اس لیے پہلے کے انتخابی قواعد موجودہ انتظام کی وضاحت نہیں کرتے بلکہ تاریخی تناظر فراہم کرتے ہیں۔
سیاست: افغانستان میں
افغانستان میں سیاست سے مراد عوامی اقتدار کا استعمال، ریاستی انتظامیہ کی تنظیم اور فیصلہ سازی میں عوامی شرکت ہے۔ 15 اگست 2021 سے طالبان نے عملی طور پر ملک کے پورے علاقے پر کنٹرول قائم کر رکھا ہے، جبکہ 2004 کا آئین غیر فعال ہو چکا ہے۔ ریاستی عہدے فی الحال تقرریوں اور فرمانوں کے ذریعے دیے جاتے ہیں، اور عوامی انتخابی عمل کا کوئی دستاویزی ثبوت موجود نہیں ہے۔
VivAVia can make mistakes. Check important information.

